اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 609 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 609

609 رقص شیطاں ہوا تھا پہلے آسماں پر خدا تھا میں اسے جانتا تھا وہ تم میرا آشنا تھا نے احساں کیا لد بھی بھی بھی پہلے بھی میرا گھر جل گیا تھا پہلے بھی اس کے تیور ہیں اب کے اور ہی کچھ اگر چہ خفا تھا پہلے بھی وہ مجھ سے اب بھی انہیں شکایت ہے مجھ کو ان سے گلہ تھا پہلے بھی اب کے اس کی ہنسی ہے اور ہی کچھ پھول یوں تو ہنسا تھا پہلے بھی ہم فقیروں کو، ہم اسیروں کو اُس نے اپنا لیا تھا پہلے بھی ہے اب لہو میں نہا کے نکلا اشک یوں تو گرا تھا پہلے بھی