اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 541 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 541

541 اے خطیب خوش بیاں! آ دیکھ شانِ امتیاز میرا آقا محرم حق اور تو محروم راز سردی کردار تیرے سجدے رمز الا اللہ سے واقف نہیں سے ہے منجمد تیری نماز نہیں گوسفندان محمد کا کوئی رہبر پاس گرگان کہن بھی کر رہے ہیں سازباز کس مسیح وقت نے پھونکا ہے صور اسرفیل قدسیاں نعرہ زناں آئیند از دور و دراز کیا کسی عیسی نفس نے تُم بِاِذْنِ اللہ کہا کروٹیں سی لے رہی ہے ساقیا! خاک حجاز تیری آہ صبح گاهی نرم ریز و حشر خیز تیرے پاکیزہ نفس سے سنگ و آہن بھی گداز ساقیا! کچھ روز سے تیری نگاہوں کے طفیل بادہ مغرب کا عادی پی رہا ہے خانہ ساز