اشکوں کے چراغ — Page 535
535 وہ نہ تنہا مجھ سے کوسوں دور تھا میں بھی ننگے پاؤں تھا ، مجبور تھا میں غزل خواں تھا فقط تیرے لیے بات کیا تھی اور کیا مشہور تھا اس قدر پھولوں کا پتھراؤ ہوا پتھر بھی چکنا چور تھا شرم ނ شیخ بھی آئے تھے چھپ کر دیکھنے پردہ سیمیں رقص حور تھا لمس کی کو سے تھا گدرایا ہؤا دھیان کی ٹہنی پہ جو انگور تھا چل رہے تھے گٹھڑیاں سر پر لیے اس سفر میں ہر کوئی مزدور تھا وہ بھی اپنی ذات میں تھا قلعہ بند میں بھی اپنے آپ میں محصور تھا