اشکوں کے چراغ — Page 481
481 چاند چھپا، تارے مرجھائے ،نرگس ہے بیمار بوٹا بوٹا جاگ رہا ہے، کلی کلی بیدار ستلج پار سے ایک مداری کھیل دکھانے آیا ہاتھ کی پھرتی ، آنکھ کا جادو، بندر بانٹ کا سایہ بھیس بنائے، ناچا گایا، سبز باغ دکھلائے اک تھکی سے بچے بالے میٹھی نیند سلائے دتی سے اک آندھی اُٹھی، جا پہنچی کشمیر پیر فقیر، بال، نر ناری لٹ گئے بے تقصیر اک کشمیری قید ہے اب سری نگر کے پاس کیا جانے کیا سوچ رہا ہے تنہا اور اداس بات بات پہ روٹھنے والے! روٹھ گئی تقدیر اب بن باسی بال بکھیرے بیٹھا ہے دلگیر اب مقتول کی گردن ہے اور قاتل کی تلوار سری نگر کے خون سے لوگو! جہلم ہے گلنار۔۔۔۔جناب شیخ عبدالله وقت پڑے پر مولوی ملاں حجروں میں جاسوئے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ، دیکھ کبیرا روئے