اشکوں کے چراغ — Page 475
475 آہوں کی بانہیں آہوں کی بانہیں لمبی ہیں ان بانہوں کو مت پھیلاؤ ان بانہوں کی دربانی ان آہوں کی عریانی اظہار کے رستے بند ہوئے لفظوں کے پابند ہوئے چپ رہنے پر مجبور ہوئے ہم تھک کر چکنا چور ہوئے اظہار کے اوجھل رستوں پر آوازوں کے چورستوں پر مفہوم کہ زخمی رہتے ہیں ہر رہ چلتے سے کہتے ہیں ہم چھپ چھپ کر مہمان گئے سب جان گئے، پہچان گئے