اشکوں کے چراغ — Page 463
463 ہمیں ساتھ اے نامہ بر! لیتے جانا فقیروں کو بھی اس کے گھر لیتے جانا جانا اگر ہو سکے چشم تر لیتے شب غم کے شمس و قمر لیتے جانا چلے ہو تو رختِ سفر لیتے جانا اللہ کا دل میں ڈر لیتے جانا اگر شوق ہے نور کو دیکھنے کا نظر ساتھ اے بے نظر ! لیتے جانا سُن اے یوسفوں کو بچا لینے والے! زلیخاؤں کی بھی خبر لیتے جانا چلے ہو اگر اتنے لمبے سفر پر کوئی ساتھ زادِ سفر لیتے جانا اگر وسعتیں دیکھنی ہوں فلک کی کھلے شہر کے بام و در لیتے جانا اثر اس ہوتا نہیں موسموں کا ازل آرزو کا تجر لیتے جانا اگر کوئی مصرف ہو اس بے ہنر کا تو مضطر کا سر کاٹ کر لیتے جانا