اشکوں کے چراغ — Page 461
461 اوڑھ کر آئین کا جھوٹا لبادہ اس برس بن گیا ملا کا بچہ شاہزادہ اس برس جھوٹ کے اس عہد میں شوخی سے ٹخنے جوڑ کر ایک جھوٹے نے کیا اک اور وعدہ اس برس دیکھیے کیا غیب سے ظاہر ہو، وہ نکلا تو ہے میرے قتل عام کا کر کے ارادہ اس برس جھوٹ بولا ہے جو اس نے مصطفی کے نام پر اس کا اخباروں میں اب ہو گا اعادہ اس برس ہر طرح کے مجھ پہ اب بہتان باندھے جائیں گے جھوٹ سے جھوٹے کریں گے استفادہ اس برس قوم کی ناموس کو ظالم نے گروی رکھ دیا بک گیا جتنا بھی تھا غیرت کا مادہ اس برس ان بھری گلیوں میں ہو گا کوئی تو رجل رشید کہہ سکے جو اس کے منہ پر حرف سادہ اس برس