اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 460 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 460

460 کبھی یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ گلہ نہ کرے یہ اور بات ہے اوروں سے تذکرہ نہ کرے اسے کہو کہ بڑے شوق سے ملے لیکن مجھے قریب سے دیکھے تو جی برا نہ کرے ہمی نے وقت کی دہلیز پر کھڑے ہو کر اسے کہا تھا کہ جلدی میں فیصلہ نہ کرے زمین سب سے بغل گیر ہو کے پوچھتی ہے وہ کون ہے کہ جو مجھ سے معانقہ نہ کرے نہ اس کی سڑکیں کشادہ ، نہ اس کی گلیاں صاف تو شہر ذات میں آئے کبھی خدا نہ کرے وہ اپنے آئنہ خانے میں بیٹھ کر مجھ پر ہنسے ضرور، مگر اس قدر ہنسا نہ کرے جھگڑنا ہو تو جھگڑتا رہے وہ ماضی سے گزر رہا ہے جو لمحہ اسے خفا نہ کرے خدا نے عقل بھی دی ہے اسے، ارادہ بھی جو میری مانے تو ”خوباں“ سے مشورہ نہ کرے نہ تیرے پاؤں میں چھالے نہ راہ میں کانٹے خدا کبھی تجھے مضطر! برہنہ پا نہ کرے