اشکوں کے چراغ — Page 4
4 حسن سے حسنِ طلب کی داد لیں عشق کی، تکرار کی باتیں کریں یار ہے آمادہ لطف و کرم کیوں عبث انکار کی باتیں کریں پھر بہار آئی ہے اک مدت کے بعد پھر گل و گلزار کی باتیں کریں غیر کو جلنے دیں اس کی آگ میں مسکرائیں، پیار کی باتیں کریں پی لیا دریا کا پانی ریت نے آؤ دریا پار کی باتیں کریں شب گزیدو! آؤ مل کر صبح تک صبح کے آثار کی باتیں کریں صبح ہونے کو ہے مضطر! آئیے مطلع انوار کی باتیں کریں