اشکوں کے چراغ — Page 431
431 اشک در اشک ابتدا میں کہیں مضطرب تھا کوئی حرا میں کہیں عشق تھا معرض وفا میں کہیں رک گیا جا کے نینوا میں کہیں ہو گئے جمع عہد کے آسیب رقص ہونے لگا گھٹا میں کہیں پھر لہو رنگ ہے زمین نجف زخم بولے ہیں کربلا میں کہیں کانپ اُٹھی ہے وسعت کو نین کوئی آنسو گرا خلا میں کہیں ہو رہی ہے سرِ صلیب حیا کشمکش اشک اور انا میں کہیں بند کر دیجیے گا دروازے جی نہ اُٹھوں کھلی ہوا میں کہیں منتظر ہے کسی بہانے کی اس کی بخشش مری خطا میں کہیں وہ مرے ہو گئے تھے ہمیں ان کا مدتوں پہلے ابتدا میں کہیں میں بھی نازاں ہوں اپنی قسمت پر میں بھی ہوں ان کی خاک پا میں کہیں مجھ کو ڈر ہے کہ فرط لذت سے گم نہ ہو جاؤں آشنا میں کہیں ٹوٹ جائے نہ رابطہ مضطر ! عہد اور عہد کے خدا میں کہیں