اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 403 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 403

403 آنکھیں لے کر نکلے تھے آئینوں کے دلدادہ لوگ اب تک گھوم رہے ہیں قریہ قریہ، جادہ جادہ لوگ کل تک مرنے کے شائق تھے بھولے بھالے سادہ لوگ ایک ذرا سی بات پہ ہیں اب جینے پر آمادہ لوگ دھلے دھلائے، سیدھے سادے، اجلے، صاف، کشادہ لوگ اتنے ہی نایاب لگیں ہیں جتنے بھی ہوں زیادہ لوگ بات بات پر ٹوکنے والے بوڑھے نیک ارادہ لوگ پوتوں سے بھی بڑھ کر بے آواز ہوئے ہیں دادا لوگ کیا جانیں لفظوں کا بھاؤ، کیا بوجھیں لہجوں کے دام تم شہری آواز کے تاجر، ہم دیہاتی سادہ لوگ تم اک دوجے کی دیواریں اونچی کرتے رہتے ہو ہم سے خواب میں آکر مل جاتے ہیں دور افتادہ لوگ رہ چلتوں کو تکتے تکتے بالآخر یہ ہوتا ہے پتھر بن کر رہ جاتے ہیں راہوں میں ایستاد لوگ استادہ پڑھا جائے