اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 401 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 401

401 عمر بھر اشک کی آواز پہ چلنے والے! فکر مت کر کہ یہ سورج نہیں ڈھلنے والے عمر گزرے گی یونہی آنکھ کی دربانی میں رکنے والے ہیں نہ یہ اشک سنبھلنے والے تم اگر ہنس کے بلا لو تو بہل جائیں گے ہم ہیں نادان کھلونوں سے بہلنے والے اپنی تصویر کا انجام بھی سوچا ہوتا اے مرے شہر کی تصویر بدلنے والے! منجمد چہروں کی خاموش نگاہی پہ نہ جا ایک آہٹ سے یہ پتھر ہیں پگھلنے والے میں اکیلا تو ہوں، تنہا نہیں ان گلیوں میں میرے بدخواہ مرے ساتھ ہیں چلنے والے آنکھ کے پانی سے کچھ اس کا مداوا کر لے شہر جلنے کو ہیں، دریا ہیں اُبلنے والے چڑھ بھی اے آنکھ کے سورج ! سر شاخ اُمید صبح ہونے کو ہے، نقشے ہیں بدلنے والے دل بھی بوجھل ہے بہت، آنکھ بھی نم ہے مضطر ! گھر کے آئے ہیں یہ بادل نہیں ملنے والے