اشکوں کے چراغ — Page 398
398 تم اگر اتنے بے اُصول نہ ہو مسکراتے رہو، ملول نہ ہو پیش ہم بھی کریں گے ہدیہ دل یہ الگ بات ہے قبول نہ ہو کبھی روئے، کبھی ہنسے ہم لوگ کوئی ہم سا بھی بے اصول نہ ہو جس کو منزل سمجھ رہے ہو میاں! وہ کہیں قافلے کی دھول نہ ہو قتل کے بعد مسکرا دینا یہ ترے عہد کا اُصول نہ ہو ایسے گزروں قریب سے اپنے مجھ کو میری خبر وصول نہ ہو تو نے ماتھا سجا لیا جس سے وہ کسی آبرو کا پھول نہ ہو لوگ اتنے خلاف ہیں اُس کے وہ کہیں عہد کا رسول نہ ہو جرم تیرا عظیم ہے مضطر ! تو سر دار بھی ملول نہ ہو