اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 389 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 389

389 کس کی یاد آ گئی ناگہاں شہر میں رک گئے کرب کے کارواں شہر میں کس کے عاشق ہیں اس بے اماں شہر میں خیمہ زن آگ کے درمیاں شہر میں کون ہے وجہ تسکین جاں شہر میں کس کا سکہ ہے اب بھی رواں شہر میں کس کا دستِ دعا شہر کی ڈھال ہے کس کے سجدوں کے ہیں سائباں شہر میں لے گیا اپنے ہمراہ سب رونقیں وہ جو تھا اک حسیں نوجواں شہر میں مسکراتا رہے وہ جہاں بھی رہے کہہ رہے ہیں یہ خالی مکاں شہر میں آئے گا ایک دن مسکراتا ہوا زخم بولیں گے بن کر زباں شہر میں