اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 388 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 388

388 رنگ و بو کا سفر تمام ہوا کو ہوا یا ترا پیام ہوا پھول سے پھول ہم کلام ہوا وصل کا کچھ تو اہتمام ہوا مجھ کو خلعت ملی غلامی کی عشق کا ملک میرے نام ہوا آپ آقاؤں کے بھی ہیں آقا میں غلاموں کا بھی غلام ہوا میں مقامی ہوں اور کہیں بھی نہیں تو ہوا اور بے مقام ہوا رگر گیا جو تری نظر سے گرا نے جس کو چنا امام ہوا جیسے سچ سچ ہی آگئے ہوں آپ آہٹوں کا وہ اثر دہام ہوا جب ہوا، تیرے نام پر ہر بار کربلا سے کہیں، کہیں ربوہ ہے ہم فقیروں کا قتل عام ہوا یہ تماشا بھی صبح و شام ہوا ہم بھی جائیں گے سر کے بل مضطر ! دید کا جب بھی اذنِ عام ہوا