اشکوں کے چراغ — Page 371
371 سر عام سب کو خفا کر چلے جو کرنا تھا اس سے سوا کر ترے نام کا تذکرہ کر چلے فقیروں سے جو ہو سکا کر چلے نماز محبت ادا کر چلے ہم اپنے لہو میں نہا کر چلے جو بار امانت اٹھا کر اسے چاہیے مسکرا کر ترے ساتھ چلنا ہے اس کو اگر قدم سے قدم تو ملا کر چلے ہمیں مل گیا دل کا ہسپانیہ کہ ہم کشتیوں کو جلا کر چلے بلند سوا نیزے پر ہو گئے زمین وطن کر بلا کر چلے بجا حضرت میر فرما گئے فقیرانہ آئے صدا کر چلے جو چھپ کر بھی مضطر! نہ تم سے ہوا وہی کام ہم برملا کر چلے