اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 369 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 369

369 عہد ہوں، ایک اذیت اپنے اندر لے کر بیٹھا ہوں رگ رگ میں لاکھوں نوکیلے نشتر لے کر بیٹھا ہوں شور قیامت برپا ہے انکار کے عریاں خانوں میں باہر میں ہوں اور اقرار کے محشر لے کر بیٹھا ہوں مجھ سے ملو، مجھ کو پہچانو ، مستقبل ہوں دھرتی کا قطرہ ہوں، دامن میں سات سمندر لے کر بیٹھا ہوں اس کو شوق ہے ہر نووارد لمحے کی توصیف کرے میں پلکوں میں ایک پرانا منظر لے کر بیٹھا ہوں تخت و تاج کا شوق نہ مجھ کو خواہش جھوٹی عزت کی خاک نشیں ہوں، خاک میں بوریا بستر لے کر بیٹھا ہوں چاہتا ہوں میں ایک نرالا تاج محل تعمیر کروں کتنے آنسو، کتنے لعل جواہر لے کر بیٹھا ہوں ان کو خوف ہے کشتی ڈوب نہ جائے ایک تھیڑے سے میں طوفان میں اطمینان کے لنگر لے کر بیٹھا ہوں