اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 363 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 363

363 محبت کے اظہار تک آ گیا ہوں خموشی سے تکرار تک آ گیا ہوں وہ سورج ہے نکلا ہے مغرب میں جا کر میں سایہ ہوں دیوار تک آ گیا ہوں مہک ہوں تو میں پھیلتا جا رہا ہوں اگر پھول ہوں خار تک آ گیا ہوں یہ اعجاز ہے ہجر کا اے شب غم! که فرقت سے دیدار تک آ گیا ہے نہیں اتنی جرات کہ در کھٹکھٹاؤں اگر چہ در یار تک آ گیا ہوں ملاقات کی کوئی صورت تو ہو گی یہی سوچ کر دار تک آ گیا ہوں اگر چپ رہا ہوں تو چرچے ہوئے ہیں ہنسا ہوں تو اخبار تک آ گیا ہوں بگولوں کا ڈر ہے نہ آندھی کا خطرہ میں اب دشت کے پار تک آ گیا ہوں ملے نہ ملے ، اس کی مرضی ہے منظر! میں داتا کے دربار تک آ گیا ہوں (اگست، ۱۹۸۸ء)