اشکوں کے چراغ — Page 349
349 جنگل ہوں قدیم خار وخس کا خمیازہ ہوں باغ کی ہوس کا پھولوں کا لہو ہے اس کی خوراک شبنم ہے نچوڑ چاند رس کا تنہا بھی ہے اور گھرا ہوا بھی ہے اسیر پیش و پس کا واعظ کو بھی بحث کی ہے عادت یاروں کو بھی گفتگو کا چسکا اک غار میں روشنی ہوئی تھی قصہ ہے یہ سینکڑوں برس کا بھی بجھا دو دروازہ بھی کھول دو قفس کا لگتا ہے کہ صبح ہو گئی ہے سورج بھی نیا ہے اس برس کا