اشکوں کے چراغ — Page 297
297 Savox لفظ مر جائیں تو مفہوم بھی مر جاتے ہیں کتنے کاغذ کے کفن خون سے بھر جاتے ہیں دشت در دشت پھرا کرتے ہیں خنداں فرحاں گھر کے پردیس میں آتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں گھورتی رہتی ہیں الفاظ کی آنکھیں ان کو شعر کے رُخ پہ جو نظارے بکھر جاتے ہیں رات دن دار پہ تانتا سا بندھا رہتا ہے چاہنے والے ترے جانے کدھر جاتے ہیں ڈر نہ انکار کے سیلاب سے اتنا مضطر ! یہ وہ دریا ہیں جو چڑھ چڑھ کے اُتر جاتے ہیں