اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 290 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 290

290 ترے دشمن بھی کہنے پر ہیں مجبور تو سچا ہے ، تو صادق ہے ، تو حق ہے بھرم قائم ہے جس سے زندگی کا وہ تیری مسکراہٹ کی شفق ہے شعور غم تھی ނ مانگتا ہوں که نازک مسئلہ ہے اور ادق ہے نہیں یہ قطرۂ شبنم نہیں ہے یہ گل ہائے عقیدت کا عرق ہے غلامی کا شرف تجھ کو ہے حاصل تجھے کس بات کا مضطر! قلق ہے