اشکوں کے چراغ — Page 271
271 ترے لب پہ بھول کر بھی مرا نام تک نہ آیا یہ کہاں کی دوستی ہے کہ سلام تک نہ آیا ز ہے منزلِ محبت، زہے رہنمائے کامل یہ سفر تھا تیز اتنا کہ مقام تک نہ آیا ترے تشنگانِ غم کی یہی خوش نصیبیاں ہیں کبھی مل گئے سمندر، کبھی جام تک نہ آیا یہی ڈر ہے تھک نہ جائیں مری منتظر نگاہیں مجھے اس کا غم نہیں ہے کہ تو بام تک نہ آیا جو بھٹک گئے تھے آئے سبھی لوٹ کر مسافر کوئی صبح تک نہ آیا، کوئی شام تک نہ آیا