اشکوں کے چراغ — Page 259
259 مرے نور نظر مرے باغ کے پھول جگر کے ٹکڑے لوٹ کر نہ آنے کی ہے اس لیے جان پدر! مری تنہائی غنیمت جانو سطوت اور کرشن مطلع اور نور الدین ڈھل گئی رات کوئی بات کرو ان کو کچھ علم نہیں اور کوئی لفظ، کوئی لہجہ ہی سوغات کرو حشر برپا ہوا پھر کسی یاد کی برسات کرو کیسی قیامت ٹوٹی کشت ویراں ہے مری ان کو سمجھاؤں تو کیسے سمجھاؤں میرا سینہ ہے اجاڑ نہ مرے پاس کوئی لفظ ، نہ کوئی لہجہ اور یہ فرقت کا پہاڑ ان کو کیا علم کہ یہ ایک دو پل کی نہیں بات خشک، بے آب و گیاہ مسکرا کر اسے جل تھل کر دو کہ یہ بات زمانے کی ہے فرط لذت سے مجھے پاگل کر دو