اشکوں کے چراغ — Page 254
254 اک درد سا ہے دل میں، چھپائے لیے پھرتے خاموش نظر آتے ہیں کچھ روز سے خدام بڑھ جاتا ہے مجبوری و مهجوری کا احساس جب ذہن میں آ جاتے ہیں کچھ لوگ سر شام یہ کون سا انصاف ہے تم خود ہی بتاؤ ” ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا“