اشکوں کے چراغ — Page 199
199 تصدیق چاہتا ہے اگر ، آفتاب لا منہ بولتا ثبوت کوئی ہمرکاب لا اظہار کی چتا میں سلگنے کی تاب لا شب ماہتاب بانٹ، سحر آفتاب لا اتنا تو ہو تو اُس کے لیے بے قرار ہو تو چاند ہے تو چاندنی کا اضطراب لا جس کا عدالتوں میں حوالہ دیا گیا وہ اقتباس میں بھی پڑھوں لا کتاب لا خلقت کھڑی ہے کاسئہ حیرت لیے ہوئے اے حسنِ تام! حسن کو زیر نقاب لا اتنا تو دیکھ آ رہا ہوں کتنی دور سے اے بے مقام! میرے سفر کا ثواب لا تحفہ تو پیش کر کوئی منصور وقت کو پتھر اگر نہیں ہے تو برگِ گلاب لا