اشکوں کے چراغ — Page 189
189 کچھ وہی لوگ سرفروش رہے موت کا ڈر نہ جن کو ہوش رہے آپ نے بات بات پر ٹوکا ہم سردار بھی خموش رہے کس قدر وضعدار ہیں ہم لوگ قبر میں بھی سفید پوش رہے ہم خطا کار تھے بہر صورت وہ بہر حال عیب پوش رہے بیٹھے بیٹھے وہ انقلاب آیا رند باقی نہ مے فروش رہے ہم نے اک بات سرسری کی تھی آپ کیوں عمر بھر خموش رہے ڈھل چکا دن، اُتر گئے دریا ولولے ہیں نہ اب وہ جوش رہے ان کے ہو جاؤ تم اگر مضطر ! فکر فردا نہ فکر دوش رہے