اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 179 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 179

179 یوں سوالات سر میں رہتے ہیں جیسے مجبور گھر میں رہتے ہیں آنسوؤں کو نہ روکیے صاحب! مسافر سفر میں رہتے ہیں دشت در دشت آهوان خیال انتظار سحر میں رہتے ہیں فصل وحشت میں احتیاطاً لوگ پا بہ زنجیر گھر میں رہتے ہیں ہو کے مستور لاکھ پردوں میں دل میں بستے، نظر میں رہتے ہیں کس لیے ٹوکتے ہو مضطر کو کیا یہی شہر بھر میں رہتے ہیں