اشکوں کے چراغ — Page 178
178 صبح عہد شباب ہو جیسے فرصت بے حساب ہو جیسے چاندنی زندگی محو خواب ہو، چناب ہو جیسے اتنی ناکامیابیوں کے بیچ زندگی کامیاب ہو جیسے آرزوؤں کی دھوپ چھاؤں میں آرزو محو خواب ہو جیسے میری کشتی کے ڈوبنے کے بعد مطمئن سطح آب ہو جیسے سوچتا ہوں کہ اپنے آپ سے بھی ایک گونہ حجاب ہو جیسے ان کو دیکھا تو یوں ہوا یوں ہوا محسوس عشق کارِ ثواب ہو جیسے دیکھتے ہیں وہ اس طرح مضطر! کوئی ان کا جواب ہو جیسے