اشکوں کے چراغ — Page 165
165 حادثہ یوں تو ٹل گیا ہے بہت گھر کا نقشہ بدل گیا ہے بہت اپنے اندر سے جل گیا ہے بہت آگ بھی وہ نگل گیا ہے بہت کچھ تو ماحول بھی تھا آلودہ زہر بھی وہ اُگل گیا ہے بہت اس کو پی لیجیے تسلی اب یہ آنسو اُبل گیا ہے بہت عہد یوں بھی سفید پوش نہ تھا کوئی کالک بھی مل گیا ہے بہت زندگی رہ گئی ہے رستے میں وقت آگے نکل گیا ہے بہت کھڑکیاں کھول دو مکانوں کی اب تو سورج بھی ڈھل گیا ہے بہت