اشکوں کے چراغ — Page 164
164 دھرتی کو نہ آگ سے بیا ہیں ہو جائیں بھسم نہ خواب گاہیں موڑے سے نہ مڑسکیں گے دریا روکے سے نہ رک سکیں گی راہیں شہروں سے نکل کے راستوں نے کھنڈرات میں ڈھونڈ لیں پناہیں تصویر کو آ گیا پسینہ آئینے کی تھک گئیں نگاہیں ہے ایک سے اک حسین بڑھ کر چاہیں بھی تو کس حسیں کو چاہیں بارش نہ ہوئی تو آنسوؤں سے دھو لیں گے وفا کی شاہراہیں دیوار پہ بولتے ہیں کوے آنگن میں گڑی ہوئی ہیں بانہیں مولا! اسے سایہ دار کر دے ننگی ہیں مرے وطن کی راہیں مضطر ہے جہان بھر کا ضدی چاہے گا وہی جو آپ چاہیں