اشکوں کے چراغ — Page 163
163 رو کے سے نہ رک سکیں گی آہیں لمبی ہیں محبتوں کی بانہیں خوشبو کے خرید کر جزیرے پھولوں نے تراش لیں پناہیں پھولوں کا لباس جل گیا ہے غنچوں کی جھلس گئیں کلا ہیں یہ صوت وصدا ، یہ حرف و معنی ناقص ہیں تمام اصطلاحیں لگتا ہے نماز پڑھ رہے ہیں لفظوں کی کٹی ہوئی ہیں بانہیں یا رب! کوئی آبرو کا آنسو پانی کو ترس گئیں نگاہیں پت جھڑ کے شہید سو رہے ہیں تا حد نظر ہیں خانقاہیں تصویر کو اذن دے سخن کا آئینے کو بخش دے نگاہیں یادوں میں گھری ہوئی ہیں مضطر ! ماضی کی تمام سیر گاہیں