اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 149 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 149

149 خدمت کے مقام پر کھڑا ہوں چھوٹا ہوں مگر بہت بڑا ہوں تیری ہی نہیں تلاش مجھ کو خود کو بھی تلاش کر رہا ہوں منسوخ نہ ہو سکوں گا ہرگز قدرت کا اٹوٹ فیصلہ ہوں ایسا نہ ہوٹوٹ پھوٹ جاؤں آئینہ ترے وجود کا ہوں مالک ہے تو میرے جسم و جاں کا چاہوں نہ تجھے تو کس کو چاہوں بولوں تو ہوں عہد کی علامت خاموش رہوں تو معجزہ ہوں جس شوخ کی بات کر رہے ہو اس کو تو ازل سے جانتا ہوں وہ میرے وجود کا مخالف میں اس کے بھلے کی سوچتا ہوں طوفاں کو بھی ہو چلا ہے احساس ساحل کے قریب آ گیا ہوں منزل ہوں تو معتبر ہوں مضطر ! رستہ ہوں تو سیدھا راستہ ہوں