اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 135 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 135

135 اندھیرا اب ادھر شاید نہ آئے اسے رستہ نظر شاید نہ آئے وہ نااُمید ہے اتنا کہ اس کی دعاؤں میں اثر شاید نہ آئے دل نادان کو تم جانتے ہو یہ باغی راہ پر شاید نہ آئے چلا ہے ڈھونڈ نے تصویر اپنی اسے کچھ بھی نظر شاید نہ آئے بڑی مدت کے بعد آیا ہے واپس لمحہ لوٹ کر شاید نہ آئے وہ جا کر بھی کبھی جاتا نہیں ہے مگر بار دگر شاید نہ آئے ستاروں ہی پہ کر لینا قناعت کہ وہ رشک قمر شاید نہ آئے