اشکوں کے چراغ — Page 128
128 بول سکتا ہوں میں اگر چاہوں میرے منہ میں زبان اب بھی ہے لاکھ سمجھایا ، لاکھ دھمکایا ول مگر بد گمان اب بھی ہے خاک پا اس کا، جاں نثار اس کا مضطر ناتوان اب بھی ہے
by Other Authors
128 بول سکتا ہوں میں اگر چاہوں میرے منہ میں زبان اب بھی ہے لاکھ سمجھایا ، لاکھ دھمکایا ول مگر بد گمان اب بھی ہے خاک پا اس کا، جاں نثار اس کا مضطر ناتوان اب بھی ہے