اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 122 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 122

122 نہ اتراؤں میں کیوں سولی پر چڑھ کر عطا کردہ ہے یہ اعزاز تیرا سمجھتا کیوں نہیں ہے میرا قاتل غضب کتنا ہے بے آواز تیرا کہاں جائے گا آدھی رات مضطر ! اگر ہو گا نہیں در باز تیرا