تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 62
62 ☆ ۲۵۔حضرت سید ناصر نواب صاحب دہلوی۔حال قادیانی ولادت: ۱۸۴۵ء۔بیعت : ۱۸ارجون ۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۹ ستمبر ۱۹۲۴ء تعارف: حضرت سید میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ صوفیاء خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔جو مغل شہنشاہ شاہجہان کے زمانہ میں بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان وارد ہوا۔پہلے بزرگ خواجہ محمد نصیر نقشبندی تھے جو حضرت بہاؤ الدین نقشبندی کی اولاد میں سے تھے۔اس خاندان میں مشہور صوفی حضرت خواجہ محمد ناصر عندلیب پیدا ہوئے۔جنہیں ایک بزرگ نے کشف میں ایک عظیم الشان بشارت دی کہ: ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی اور اس کا انجام مہدی موعود پر ہو گا۔“ حضرت خواجہ صاحب نے اس عظیم الشان بشارت پر صوفیاء کے ایک نئے سلسلہ طریق محمدیہ کی بنیاد رکھی اور پہلی بیعت اپنے تیرہ سالہ بیٹے خواجہ میر درد سے لی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت خواجہ میر درد کے نواسے تھے۔آپ کے والد گرامی کا نام حضرت میر ناصر امیر تھا۔اس بشارت کا ظہور حضرت میر صاحب کی دختر سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شادی کے رنگ میں ہوا۔حضرت اقدس سے تعلق : حضرت سید ناصر نواب امرتسر میں محکمہ انہار میں سب اوور سئیر ملازم ہوئے اور اس سلسلہ میں قادیان آنے کا موقع ملا اور حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان سے ابتدائی تعارف ہوا۔مزید تعلق حضرت اقدس سے بعد میں آپ کی صاحبزادی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم (حضرت ام المومنین ) کے نکاح سے ہوا۔حضرت اقدس سے نکاح ۱۸۸۵ء میں دہلی میں ہوا جو مشہور اہلحدیث عالم شیخ الکل مولانا نذیرحسین دہلوی نے پڑھا۔اس وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شہرت نہ تھی۔حضرت اقدس نے جب ”براہین احمدیہ“ شائع فرمائی تو آپ نے بھی ایک نسخہ خریدا۔آپ محکمہ انہار میں ملازمت کے سلسلہ میں مختلف علاقوں میں متعین رہے۔بیعت : ۱۸۸۹ء میں حضرت اقدس نے ماموریت کا دعویٰ فرمایا اور لدھیانہ میں سلسلہ بیعت شروع ہوا تو کچھ تو قف سے آپ نے ۱۸ جون ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت ۱۳۳ نمبر پر ہے۔اس بیعت کے نتیجے میں آپ کو اپنے زمانہ اہلحدیث کے دوستوں مولوی محمد حسین بٹالوی اور شیخ نذیرحسین صاحب دہلوی سے تعلقات چھوڑنے پڑے۔جن کے ساتھ مل کر آپ حضرت مسیح موعود کی ابتداء مخالفت بھی کرتے رہے تھے۔بیعت سے قبل ۱۲/ اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ ”میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت بُرا کیا اب میں تو بہ کرتا ہوں۔“