تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 56 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 56

56 ☆ ۲۲ - حضرت مولوی سیدمحمد احسن صاحب امر و به ضلع مراد آباد بیعت : ۲۳ / اپریل ۱۸۸۹ء۔وفات : ۱۵/ مارچ ۱۹۲۶ء تعارف: حضرت مولوی سید محمد احسن رضی اللہ عنہ کے والد سید مردان صاحب محلہ شاہ علی سرائے امروہہ کے رہنے والے تھے۔آپ نواب صدیق حسن خان آف ریاست بھوپال کی مجلس علماء کے خاص رکن تھے۔نواب صاحب کو دینی علم کا خاص شوق تھا۔انہوں نے ہندوستان کے چیدہ علماء کی ایک جماعت کو منتخب کر کے اپنے پاس ملازم رکھا ہوا تھا۔جو انہیں علمی مواد بہم پہنچاتے رہتے تھے جس کی مدد سے انہوں نے مختلف دینی کتب تصنیف کیں۔ان علماء میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل تھے۔نواب صاحب کے ہاں آپ کی بڑی عزت تھی۔آپ ریاست بھوپال میں مہتم مصارف کے عہدہ پر فائز تھے حضرت اقدس کا آپ سے تعلق محبت اور بیعت : آپ نے ۲۳ اپریل ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس کی تحریری بیعت کی۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت کا نمبر ۷ ۸ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے جب ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو علماء کی طرف سے مخالفت کا زبر دست شور اٹھا۔کفر کے فتوے لگائے گئے۔حضور حقیقۃ الوحی“ میں بیان فرماتے ہیں: آپ ایک دفعہ نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہے تھے جس میں آپ کے آنے کی خبر ان کے اس شعر میں ہے:۔مهدی وقت و عیسی دوراں عین اس شعر کے پڑھنے کے وقت الہام ہوا: از پئے آں محمد احسن را هر دو را شہسوار می بینم تارک روزگار می بینم یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اس غرض کے لئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح کے پاس حاضر ہوں اور اس کے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجالا دیں اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔حضرت مولوی صاحب نے کمر بستہ ہو کر حضرت اقدس مسیح موعود کے دعوے کی تائید میں بہت سی کتابیں تالیف کیں اور لوگوں سے مباحثات کئے۔اس کا آغاز حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے بیان کے مطابق اس طرح ہوا۔آپ فرماتے ہیں۔” مجھے یاد ہے کہ جب حضرت اقدس نے اپنے دعویٰ مسیح موعود میں صرف ایک اشتہار مختصر نکالا تھا وہ مولوی صاحب کے پاس بھوپال پہنچ گیا اور مولوی صاحب نے تصدیق کی اور ایک کتاب اعلام الناس“ جو حضرت اقدس کے دعوی کے ثبوت میں تھی چھپوا کر لدھیانہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں