تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 53
53 میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد ! میں کمال راستی سے یہ عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجا لاؤں کہ اس کی تمام قیمت اپنے پاس سے واپس کر دوں۔حضرت پیر و مرشد نابکارشر مسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرج میرے پر ڈال دیا جائے۔پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔“ حضرت اقدس کی نظر میں آپ کا مقام : حضرت اقدس اپنی کتاب فتح اسلام میں فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نو را خلاص کی طرح نور دین ہے میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہوسکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کو میسر ہیں ہر وقت اللہ ، رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔اور میں تجربہ سے نہ صرف حُسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک سے دریغ نہیں اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔“ حضرت اقدس آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں: كنت اصرخ فی لیلی و نهاری و اقول يارب من انصاری یا رب من انصاری انی فرد مهين۔فلما تواتر رفع يدالدعوات۔وامتلا منه جوّ السموات۔اجيب تضرعي۔وفارت رحمة ربّ العالمين فاعطانى ربّى صديقا صدوق اسمه كصفاته النورانية نور الدين هو بهیروی مولدًا وقرشى فاروقى نسبًا۔۔۔۔۔ومارايت مثله عالمًا في العالمين۔۔۔۔۔۔۔۔ولما جاء نی ولاقانی ووقع نظری علیه رايته آيةً من آیات ربّى و ايقنت انه دعائى الذي كنت اداوم عليه و اشرب حسی ونبانی حدسی۔انه من عباد الله المنتخبين ( ترجمہ ) اور میں رات دن اللہ تعالیٰ کے حضور چلاتا تھا اور کہتا تھا اے میرے رب میرا کون ناصر و مددگار ہے میں تنہا اور ذلیل ہوں۔پس جب دعا کا ہاتھ پے در پے اٹھا اور آسمان کی فضا میری دعا سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے