تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 320
320 ☆ ۳۰۲۔حضرت محمد رحیم الدین۔حبیب والہ ولادت ۱۸۶۲ء۔بیعت ۱۸۹۴ء۔وفات ۴ ستمبر ۱۹۴۷ء تعارف: حضرت محمد رحیم الدین رضی اللہ عنہ کا وطن سیو بارہ حبیب والہ ضلع بجنور ( صو بہ اتر پردیش) تھا۔آپ کی ولادت سال ۱۸۶۲ء کو ہوئی۔ڈاک پتھر ڈیرہ دون میں بھی ملازم رہے۔بیعت : آپ نے بیعت ۱۸۹۴ء میں کی۔حضرت اقدس مسیح موعود کے پاس کئی بار قادیان تشریف لائے۔آپ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع خدام مشرق کی طرف جو سڑک جاتی ہے سیر کو گئے۔سیٹھ عبدالرحمن مدراسی بھی ہمراہ تھے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ قادیان کی آبادی سری گوبند پور تک چلی جاوے گی۔گویا سری گو بند پور اور قادیان ایک شہر ہو گیا ہے“ آپ نے سنا کہ کرم دین کے مقدمہ میں مجسٹریٹ حضرت صاحب علیہ السلام کو نہیں چھوڑے گا آپ نے دعا کی تو الہام ہوا۔مرزا صاحب کا بال بھی بیکا نہ ہوگا“ وفات : آپ نے اپنی عمر کا آخری حصہ دارالامان قادیان میں گزارا۔ہم رستمبر ۱۹۴۷ء میں آپ کی وفات ہوئی۔بہشتی مقبرہ قطعہ رفقاء میں مدفون ہیں۔اولاد: حضرت منشی رحیم الدین صاحب کی شادی محترمہ رحمت النساء صاحبہ سے ہوئی۔حضرت منشی صاحب کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔آپ کی بیٹیاں صفیہ بانو اور رشیدہ بانو تھیں بیٹیاں احمدی تھیں مگر بیٹے احمدیت کی نعمت سے محروم رہے۔آپ کی صاحبزادی مکرمہ صفیہ بانو کی شادی میاں محمد یا مین تاجر کتب آف قادیان سے ہوئی تھی۔اس بیٹی سے اولا د مکر مہ امتہ الرحمن صاحبہ اہلیہ قریشی عبد الوحید صاحب آف قصور اور مکرم محمد یوسف صاحب حال کینیڈا ہیں۔اسی طرح امۃ الرحیم ( اہلیہ حافظ شفیق احمد مرحوم انچارج حافظ کلاس) اور دیگر تین بیٹیاں بھی تھیں۔ماخذ : (۱) احمدی جنتری ۱۹۵۴، صفحه ۳۰ (۲) رجسٹر روایات نمبر ۳ غیر مطبوعه (۳) بیان فرمودہ حضرت خلیفه امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی، مطبوعہ الفضل ۲۵ / اگست ۱۹۹۹ء (۴) بیان مکرم فخر الحق شمس اسٹنٹ ایڈیٹر الفضل۔