تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 132 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 132

132 کو وفات پائی جولجنہ اماءاللہ کی ابتدائی فعال رکن تھیں۔ماخذ : (۱) براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵(۳) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱۰ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۶) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) سیرۃ المہدی جلد سوم (۵) اخبار الحکم ۱۶ اگست ۱۹۰۰ء (۶) رجسٹر روایات نمبر ۱۴۰۱۱ ☆ ۷۸۔حضرت شیخ مولا بخش صاحب۔۔۔۔۔ڈنگہ گجرات بیعت : ابتدائی زمانہ میں حضرت شیخ مولا بخش رضی اللہ عنہ ڈنگہ ضلع گجرات کے تاجر چرم تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا نام ۳۱۳ / اصحاب صدق وصفا میں درج ہے۔حضرت اقدس نے کتاب سراج منیر میں چندہ مہمان خانہ دینے والوں میں اور تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔نوٹ : تفصیلی سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۴) انجام آتھم روحانی خزائن جلدا ☆ ۷۹۔حضرت سیدامیر علی شاہ صاحب سارجنٹ سیالکوٹ ولادت : ۱۸۴۱ء۔بیعت: ۲۹ رمئی ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت سید امیر علی شاہ رضی اللہ عنہ مالو کے بے تحصیل پسر ورضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔اصل نام علاؤ الدین عرف امیر علی شاہ تھا۔والد ماجد کا نام سید ہدایت علی شاہ صاحب تھا۔آپ کے بھائی حضرت سید خصیلت علی شاہ انسپکٹر پولیس یکے از ۳۱۳ رفقاء حضرت اقدس میں سے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۴۱ء کو ہوئی۔آپ کی شادی حضرت حکیم میر حسام الدین کی بیٹی سے ہوئی تھی۔حضرت اقدس سے تعلق : واقعات مباحثہ دہلی میں حضرت پیر سراج الحق نعمانی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کا قیام نواب لوہارو کی کوٹھی پر تھا۔آپ کے پہنچنے پر آپ کو بالا خانے پر بلوایا گیا وہاں جناب سید امیر علی شاہ سیالکوٹی اور حضرت غلام قادر فصیح سیالکوٹی تھے اور ایک اشتہار چھپوانے کی تجویز کرتے تھے