تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 57 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 57

57 پہنچے تو حضرت اقدس نے مجھ سے فرمایا کہ پڑھ کر سناؤ چند ورق تو میں نے سنا دیئے اور کچھ حصہ منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپورتھلہ نے سنایا اور باقی حصہ مولوی محمود حسن صاحب دہلوی حال مدرس مدرسہ پٹیالہ نے سنایا۔حضرت اقدس نے مضمون کو سن کر فرمایا کہ اس مضمون میں ہمارا اور مولوی صاحب کا توار د ہو گیا جو میں نے لکھا ہے وہی مولوی صاحب نے لکھا۔دیکھو کیسی صحیح فراست ہے اور مولوی صاحب کیسے راسخ فی العلم ہیں کہ جو ہمیں خدا تعالیٰ نے سمجھایا وہ مولوی صاحب بھی سمجھ گئے۔حالانکہ نہ ابھی ہماری طرف سے کوئی کتاب شائع ہوئی اور نہ کوئی اشتہار مدلل نکلا ہے اور نہ کوئی اس بارے میں ہماری تصنیف دیکھی۔یہ صرف روح القدس کی تائید ہے“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت مسیح موعود ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مولوی صاحب موصوف اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص و محبت اور تعلق روحانی رکھتے ہیں ان کی تالیف کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ لیاقت کے آدمی اور علوم عربیہ میں فاضل ہیں۔بالخصوص علم حدیث میں ان کی نظر بہت محیط اور عمیق معلوم ہوتی ہے۔حال میں انہوں نے ایک رسالہ اعلام الناس اس عاجز کے تائید دعویٰ میں بکمال متانت و خوش اسلوبی لکھا ہے۔جس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ لیں گے که مولوی صاحب موصوف علم دینیہ میں کس قدر محقق اور وسیع النظر اور مدقق آدمی ہیں۔انہوں نے نہایت تحقیق اور خوش بیانی سے اپنے رسالہ میں کئی قسم کے معارف بھر دیئے ہیں۔“ حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں میں اور اسی کتاب کے عربی حصہ میں آپ کا ذکر فرمایا نیز تحفہ قیصریہ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں چندہ دینے والے اور پُر امن جماعت کے ذکر میں نام درج فرمایا۔اسی طرح ملفوظات میں کئی مرتبہ حضور نے مختلف پیرایوں میں ذکر فرمایا ہے۔حضرت اقدس نے انجام آتھم میں فرمایا کہ:۔ایسا ہی ہمارے دلی محبت جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں۔“ آپ نے ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نام خلافت ثانیہ کے انتخاب کے لئے پیش کیا تھا اور بیعت کی تھی۔کتب کا ذکر : حضرت امروہی صاحب نے حضرت اقدس کی دعاؤں کی تائید میں کی کتب لکھیں جن کا ذکر حضرت اقدس نے بھی فرمایا ہے۔وفات اور تدفین : آپ نے ۱۵ جولائی ۱۹۲۶ء کو مردہ میں وفات پائی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی اور آپ کے بارہ میں فرمایا: جو عقیدت اور اخلاص ان کو حضرت مسیح موعودؓ سے تھا وہ اپنے رنگ میں خاص تھا وہ ہر بات میں حضرت صاحب کی صداقت کا ثبوت نکالا کرتے تھے۔اس وقت میں نماز کے بعد ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔