تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 15 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 15

15 انصار کی بجائے اپنے خاندان والوں سے مقابلہ کرنا چاہا۔اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو مقابلے کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے ان تینوں سردارانِ ( ترجمه روایت ابوداؤ د کتاب الجہاد باب في المبارزة ) مکہ کو تہ تیغ کر دیا۔“ انصار کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ بدر کے روز میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں اور بائیں دولڑکوں کو پہلو بہ پہلو کھڑے پایا۔چنانچہ ان لڑکوں میں سے ایک نے مجھے پوچھا کہ چچا ابو جہل کہاں ہے؟ میں نے کہا میرے بھتیجے تو کیا کرے گا۔اُس نے کہا میں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں اُسے قتل کروں گا۔یا اس کوشش میں مارا جاؤں گا اور یہی بات خاموشی سے دوسرے نے کہی۔میں خوش ہوا کہ میں بہادر آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوں اور میں نے ابو جہل کی طرف اشارہ کر دیا۔میرا اشارہ کرنا تھا کہ دونوں نو جوان اس پر عقاب کی طرح جھپٹے اور اس کو حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔“ بدری صحابہ کی فضیلت: ( بخاری کتاب المغازى باب فضل من شهد بدر) حضرت حارثہ ابھی جوان تھے وہ جنگ بدر میں شہید ہوئے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت الفردوس میں ہے۔( بخاری کتاب الجہاد والسير ، باب من آتاه هم غرب فقتله ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بدر اور حدیبیہ میں شمولیت کی وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔“ ( مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 396 مطبوعہ بیروت 1978ء) دوسری روایت میں آتا ہے کہ: (ترجمہ) حضرت جبرئیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اصحاب بدر کا مقام پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ سب مسلمانوں سے افضل ہیں۔تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہی مقام بدر میں شامل ہونے والے فرشتوں کا دیگر ( بخاری کتاب المغازی باب شہود الملئکتہ بدراً) فرشتوں سے ہے۔اصحاب بدر کی تعداد صحیح بخاری میں صحاب بدر کی تعدا 310 سے کچھ زیادہ بیان ہوئی ہے۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب عدة اصحاب بدر) حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ علیہ نے مشرکین کو دیکھا وہ ایک