تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 308
308 نام ونشان تک نہ تھا آپ احمدیت میں بہت راسخ ایمان رکھتے تھے۔مولوی صاحب کی مشابہت اس پھول سے ہے جو کہ نہایت خوبصورت اور خوشبودار تھا۔لیکن جنگل میں کھلا وہاں اپنی خوشبو پھیلائی اور اس کو کسی نے نہ پہچانا سوائے چند مسافروں کے۔“ اولاد : پشاوری مل نے لکھا ہے کہ آپ کے دولڑ کے تھے ایک کا نام نذیر احمد انہیں یاد ہے۔۱۹ نومبر ۲۰۰۴ء کے روزنامہ الفضل کے ایک مضمون سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مکرمہ انور سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عبدالحئی صاحب کراچی حضرت نواب دین صاحب کی پوتی ہیں۔وفات: خلافت ثانیہ کے ابتداء میں آپ کی وفات ۱۹۱۴ یا ۱۹۱۵ء میں ہوئی۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) الفضل ۱۹/ نومبر ۲۰۰۴ء (۴) رسالہ اصحاب احمد جلد اول نمبر ۶ صفحه ۲۵-۲۶ (۵) مکتوب محمد احمد ابن عبد الحئی صاحب مرحوم دستگیر کالونی کراچی۔☆ ۲۸۸۔حضرت احمد دین صاحب۔منارہ ولادت : ۱۸۵۰ء۔بیعت : ۱۸ فروری ۱۸۹۲ء۔وفات ۱۹۲۳ء تعارف و بیعت : حضرت احمد دین رضی اللہ عنہ موضع منارہ تحصیل پنڈ دادنخان (علاقہ وشہر میں سب سے پہلے احمدی) ( حال ضلع چکوال) کے رہنے والے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۵۰ میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام محمد حیات صاحب تھا۔آپ نے ۱۸ فروری ۱۸۹۲ء میں بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں اندراج ۲۶۷ نمبر پر ہے۔آپ اس وقت سیالکوٹ میں تھے۔آپ اس علاقہ کے استاد تھے۔لوگ آپ کی نیکی و تقویٰ اور علم کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور گاؤں کی مسجد کے امام بھی تھے۔لیکن جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو لوگوں نے آپ کو مسجد سے نکال دیا اور ان کے پیچھے نماز ترک کر دی۔وہ بہت عرصہ گھر پر ہی نماز ادا کرتے رہے۔آپ نہایت سادہ، بچے اور زہد میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے نہایت خوش اخلاق اور دعا پر یقین رکھنے والے تھے۔آپ کے ایک رؤیاء سے منارہ میں سے گزرنے کا ذکر ملتا ہے۔مخالفت : ۱۹۲۳ء میں آپ کے ان حالات سے اطلاع پا کر ملک گل محمد صاحب پنشنر ریڈر ( قادیان) آپ کے پاس گئے۔ملک صاحب نے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ مولوی ظہور شاہ کو شرارت سے روکیں جو ان حالات کو پیدا کر رہا تھا اور حضرت مولوی صاحب کو ملک صاحب اپنی رہائش گاہ پر لے گئے وہاں سب نے آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز پڑھی۔وفات: آپ کی وفات ۱۹۲۳ء میں ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی تھی آپ منارہ کے قبرستان میں مدفون ہیں۔