تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 306
306 آئینہ کمالات اسلام اور تحفہ قیصریہ میں جلسہ سالانہ اور جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں ذکر ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۳۴۴ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۳) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۴) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۵) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲۔۲۸۵۔حضرت صاحب دین صاحب تہال۔گجرات ولادت : ۱۸۷۴ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۰۸ء تعارف: حضرت میاں صاحب دین رضی اللہ عنہ تہال ضلع گجرات کے رہنے والے تھے جو کھاریاں کے قریب واقع ہے۔آپ تہال میں امام مسجد تھے۔اور بہت بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے۔آپ کے خاندان سے ایک صاحب صوبہ خان حفظ قرآن کیلئے گولیکی ضلع گجرات گئے۔ادھر واپس آکر یہاں قیام کیا۔آپ کو علم کا بیحد شوقت تھا اور تہال میں ایک ذاتی کتب خانہ بھی تھا۔بیعت : آپ ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شامل تھے اور یہی سال آپ کی بیعت کا ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں آپ کے نام کا اندراج جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں میں 11 نمبر پر ہے۔تحفہ قیصریہ میں آپ کا جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں بھی ذکر ہے۔حضور نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے ایک نشان کے متعلق آپ کی گواہی بھی درج کی ہے کہ ۳۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت تخمیناً چار بجے دن کے آپ کے الہام کے مطابق ایک تعجب انگیز واقعہ ظہور میں آیا یعنی آسمان پر ایک انگارا نمودار ہوا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں آدمی تعجب میں رہ گئے۔“ (صفحہ ۵۲۹) دینی خدمت: جماعت احمد یہ تہال کی بنیاد آپ نے ہی رکھی تھی۔آپ کی کوششوں سے تہال میں جماعت قائم ہو گئی۔آپ لمبا عرصہ تہاں جماعت کے امام الصلوۃ رہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔اولاد: آپ کے بیٹے کا نام عبدالرحیم صاحب تھا۔جن کے دولڑ کے تھے مکرم صاحب دا داور مکرم کرم داد صاحب۔مکرم کرم داد صاحب تہاں جماعت کے صدر بھی رہے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۲۰ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۴) گجرات میں احمدیت غیر مطبوعہ مقالہ مکرم عبد الرزاق صاحب گجراتی۔