تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 253
253 اولاد: آپ کی اولا د حضرت صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائر ڈ ڈی۔ایس۔پی سکھر جوامیر جماعت احمد یہ سکھر اور خیر پور ڈویژن تھے۔آپ رفیق بانی حضرت اقدس اور صاحب کشف و الہام بزرگ تھے۔راقم الحروف حضرت صوفی صاحب کو مختلف اوقات میں سکھر میں مالتا رہا آپ کو الہاما بتایا گیا تھا کے آپ کی عمر اس قدر ہے جب وہ پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا گیا تو اس کے کچھ عرصے بعد وفات ہو گئی۔ان کی اولاد میں راجہ فخر الدین صاحب تحصیلدار اور راجہ بشیر الدین صاحب معروف ہیں۔ان کی اولاد سکھر، کراچی اور بیرونی ممالک میں ہے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) لاہور تاریخ احمدیت لاہور صفحہ ۱۵۶ (۴) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء ☆ ۲۱۳۔حضرت منشی امام الدین صاحب کلرک۔لاہور بیعت ۷ فروری ۱۸۹۲ء تعارف و بیعت : حضرت منشی امام الدین رضی اللہ عنہ ولد امیر ساکن موضع مانا نوالہ تحصیل و ضلع گوجرانواله وارد لاہور محلہ سہان بھائی دروازہ۔آپ کی بیعت کے فروری ۱۸۹۲ء کی ہے۔رجسٹر بیعت میں ۲۳۴ نمبر پر آپ کی بیعت درج ہے۔(نوٹ) آپ کے تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ۳۵۸ (۲) لا ہور تاریخ احمدیت۔☆ ۲۱۴۔جناب منشی عبدالرحمن صاحب کلرک۔لاہور بیعت: ۲۷ ستمبر ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت: جناب منشی عبد الرحمن صاحب ساکن گجرات، جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے بھائی تھے۔آپ کی بیعت ۷۶ نمبر پر رجسٹر بیعت میں درج ہے۔حضرت منشی صاحب اندرون موچی دروازہ لاہور میں رہتے تھے۔پہلے ریلوے میں کلرک تھے پھر بسلسلہ روزگار افریقہ چلے گئے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ کو جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں شمولیت