تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 201
201 بیعت کی۔اور بعض مفید کتب بھی لکھیں۔جن میں اسرار شریعت معروف ہے۔انجام : مولوی محمد فضل خاں چنگا بنگیال نے بعد میں احمدیت سے ارتداد اختیار کیا اور یہ اعلان اخبار اہلحدیث امرتسر ستمبر ۱۹۳۷ء میں شائع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں نازیبا الفاظ کلمات کہے اور اسی حالت میں ہی وفات پائی۔وفات : ۱۹۳۸ء میں وفات پائی۔ماخذ: (۱) ضمیمه انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) اخبار اہلحدیث امرتسر ستمبر ۱۹۳۷ء (۳) تاریخ احمدیت جلد اول (۴) روزنامہ الفضل ربوہ ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء۔☆ ۱۵۱۔حضرت ماسٹر قا در بخش صاحب لو دیانه لودیانه ولادت ۱۴۰ راگست ۱۸۷۰ء۔بیعت: ۲۵ /ستمبر ۱۸۹۱ء۔وفات: ۱۰/ جولائی ۱۹۲۳ء تعارف: حضرت ماسٹر قا در بخش رضی اللہ عنہ کے والد کا نام عظمت علی صاحب تھا۔آپ کی ولادت ۱۴ اگست ۱۸۷۰ء کو ہوئی۔آپ مشن سکول لدھیانہ میں ملازم تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے ابتدائی بزرگ اساتذہ میں سے تھے۔آپ مولوی رحیم بخش ایم۔اے ( جو بعد میں مولانا عبدالرحیم درڈ کے نام سے معروف ہوئے ) کے والد ماجد تھے۔بیعت : آپ نے ۲۵ ستمبر ۱۸۹۱ء کو بیعت کی رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۶۳ نمبر پر ہے۔ایک روایت : حضرت ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ آتھم کی پندرہ ماہ کی میعاد کے دنوں میں لدھیانہ میں لوئیس صاحب ڈسٹرکٹ جج تھا۔آتھم چونکہ لوئیس کا داماد تھا۔اس لئے لدھیانہ میں لوئیس صاحب کی کوٹھی پر آ کر ٹھہرا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں دوران میعاد آتھم لدھیانہ میں آیا۔ان دنوں آپ کا ایک غریب غیر احمدی رشتہ دار جو لوئیس صاحب کا نوکر تھا اور آتھم کے کمرے کا پنکھا کھینچا کرتا تھا۔اس سے ماسٹر صاحب نے پوچھا کہ تم نے آتھم کی رہائش پر کبھی اس کے ساتھ کوئی بات بھی کی ہے۔اس نے کہا صاحب ( یعنی آتھم ) رات کو روتا رہتا تھا۔تو ایک دفعہ اس نے پوچھنے پر بتایا کہ اسے تلواروں والے نظر آتے ہیں۔اس پر ملازم مذکور نے کہا کہ ان کو پکڑ کیوں نہیں لیتے تو صاحب نے کہا وہ صرف مجھے ہی نظر آتے ہیں اور کسی کو نظر نہیں آتے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : سراج منیر تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ڈائمنڈ جوبلی جلسہ اور پُر امن جماعت کے ضمن میں کیا ہے۔وفات حضرت ماسٹر صاحب کا انتقال ۱۰ر جولا ئی ۱۹۲۳ء کو لاہور میں ہوا۔اولاد: حضرت ماسٹر قادر بخش کی اولاد میں تین بیٹے (۱) حضرت مولانا عبدالرحیم درد (۲) مکرم با بو برکت اللہ