تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 167
167 ☆ ۱۱۰۔حضرت سید محمد ضیاء الحق صاحب روپڑ بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف: حضرت سید محمدضیاء الحق آپ کا تعلق روپڑ سے تھا۔رو پڑ ضلع انبالہ میں واقع ہے۔بیعت : انجام آتھم کی فہرست ۳۱۳ میں آپ کا ذکر آیا ہے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔نوٹ آپ کے سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا۔☆ ا۔حضرت شیخ محمد عبد الرحمن صاحب عرف شعبان - کابلی بیعت: ابتدائی زمانہ میں۔شہادت ۲۰ / جون ۱۹۰۱ء تعارف: حضرت شیخ محد عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا آبائی وطن قریہ کندر خیل تھا۔یہ بستی گردیز سے متصل ہے جو آج کل صوبہ پکتیا کا ہیڈ کوارٹر ہے۔آپ کی قوم منگل تھی اور آپ کا قبیلہ احد ز ئی تھا۔بیعت اور قیام قادیان: آپ ۱۸۹۷ء سے قبل قادیان آچکے تھے اور بیعت کر لی تھی۔آپ قادیان میں دو یا تین دفعہ آئے تھے۔ہر دفعہ کئی کئی مہینہ قادیان میں حضرت اقدس کی صحبت میں رہے اور آپ کی تعلیم اور براہین سے مستفیض ہوتے رہے۔مخالفت اور ابتلاء: آخری دفعہ جب آپ واپس گئے تو آپ کی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی خبر امیر عبدالرحمن شاہ افغانستان کو بعض پنجابیوں نے پہنچائی جو آپ کے ساتھ ملازمت میں تھے۔امیر اس بات کو سُن کر سخت برافروختہ ہو گیا اور آپ کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔حضرت اقدس کی پیشگوئی کے مصداق اور شہادت کا تذکرہ: مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قید کے دوران آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر حبس دم کر کے شہید کر دیا گیا۔اس طرح آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ کے اولین مصداق ٹھہرے جو حضرت مسیح موعود کی کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ ۲۰ / جون ۱۹۰۱ء کا دن تھا جب ایک دوست نے قادیان آکر ان کی شہادت کی اطلاع دی۔حضرت اقدس نے تذکرۃ الشہادتین میں پیشگوئی۔شَاتَانِ تُذْبَحَانَ