تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 164
164 اس میں آپ بھی شریک تھے۔(افتخار الحق یا انعامات خداوندی) بیعت : آپ کی بیعت ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء بمقام کپورتھلہ مطابق رجسٹر بیعت نمبر ۲۹۵ درج ہے۔رجسٹر بیعت میں مقیم سہارنپور تحریر ہے۔آپ کے ذریعہ شیخ عبدالوہاب صاحب نے ہندوؤں میں سے اسلام قبول کیا انہوں نے غنیۃ الطالبین فتوح الغیب، اکسیر ہدایت اور احیاء العلوم پڑھی ( وفات ۱۰ راکتو بر ۱۹۵۴) حضرت اقدس نے آپ کا نام کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں تحریر کیا ہے۔وفات: آپ ۵/جنوری ۱۹۰۸ء کو وفات پا گئے اور آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔آپ کی بیوہ محترمہ عسکری بیگم صاحبہ کا بعد میں راجہ مددخان صاحب کے ساتھ عقد ہوا۔اولاد: آپ کی اولا دایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۶۰ (۳) رجسٹر روایات نمبرے صفحہ ۳ (۴) الحکم ۱۵ اور ۶ / جنوری ۱۹۰۸۔(۴) افتقار الحق یا انعامات خداوندی۔☆ ۱۰۷۔حضرت حاجی عبدالرحمن صاحب مرحوم۔لودیا نہ بیعت: ۹۱-۱۸۹۰ ء وفات: ۱۸۹۷ء سے قبل : تعارف و بیعت: حضرت حاجی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ لودھیانہ کے رہنے والے تھے۔حضرت اقدس نے نشان آسمانی اور آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا ذکر کیا ہے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ ۹۱-۱۸۹۰ء کی ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں میں کیا ہے۔اسی طرح نشان آسمانی اور کتاب البریہ میں چندہ دہندگان اور پرامن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔وفات : آپ ۱۸۹۷ ء سے قبل وفات پا گئے۔نوٹ آپ کے تفصیلی سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ۲ (۳) کتاب البریه روحانی خزائن جلد ۱۳۔