تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 155
155 ماخذ : (1) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) حمامته البشرکی روحانی خزائن جلد۷ (۴) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۵ (۵) مضمون ” حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کی مالی تحریکات روزنامه الفضل ربوه مورخه ۴ / جنوری ۲۰۰۲ (۶) روزنامه افضل ۱۹ مئی ۱۹۸۳ء ۹۹۔حضرت حاجی منشی احمد جان صاحب مرحوم۔لود یا نہ ولادت : ۱۲۳۰ھ۔وفات : ۲۷ / دسمبر ۱۸۸۵ء تعارف: حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ لدھیانہ کے صوفی بزرگ اور پیشوا تھے۔آپ کو چہ محمد دہلی میں ۱۲۳۰ھ میں پیدا ہوئے۔بھیرہ کے پاس ایک گاؤں چک سا ہو جو اب اُجڑ چکا ہے آپ کا آبائی وطن تھا۔آپ کے والد حافظ الہی بخش تھے۔دادا کا نام مولوی محمد عاقل صاحب تھا لال قلعہ کی مغل شاہی خاندان کی بیگمات ان کی مرید تھیں۔آپ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔والدین کے فوت ہونے کے بعد بچپن میں پرورش دیلی کے ایک رئیس الہی بخش نے آپ بالکل بچپن میں دلی سے نکل آئے۔خواجہ آتش دہلوی سے نسبت تلمیذ تھی۔سولہ برس کی عمر میں فقہ کی کتاب مصنفہ قاضی ثناء اللہ صاحب کو اردو میں منظوم کیا جو طريقة الصلواۃ کے نام سے طبع ہو چکی ہے۔جب آپ نے ملازمت ترک کر دی تو پھرتے پھراتے ایک بزرگ مولوی الہی بخش بمقام پاٹلی (پٹیالہ) کے کہنے پر ضلع گورداسپور موضع رتڑہ چھترہ میں حضرت امام علی شاہ (طریقہ نقشبندیہ) کے پاس آکر مرید ہو گئے۔یہاں پر مجاہدات شاقہ کئے۔آپ ایک فانی فی اللہ بزرگ تھے۔آپ کی پاک فطرت نے حضرت اقدس کا مقام شناخت کر لیا تھا۔چنانچہ آپ کا یہ یادگار شعر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان اقدس کو ظاہر کرنے والا اور آپ کی روحانی بصیرت سے شناخت کی دلالت کرتا ہے۔ہم مریضوں کی ہے تمہی یہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے ازالہ اوہام میں تذکرہ: حضرت اقدس مسیح موعود حضرت صوفی صاحب کی با تحریر فرماتے ہیں کہ: حاجی صاحب مرحوم و مغفور ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور ان کے مریدوں میں آثار رشد و سعادت واتباع سنت نمایاں ہیں۔اگر چہ حضرت موصوف اس عاجز کے سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پا چکے لیکن یہ امران کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز