تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 154 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 154

154 ☆ ۹۸- حضرت شیخ محمد صاحب۔۔۔۔ملتی بیعت: ۱۰/جولائی ۱۸۹۱ء۔تعارف: حضرت شیخ محمد رضی اللہ عنہ ( بن شیخ احمد ) مکہ میں شعب بنی عامر میں رہائش رکھتے تھے۔جہاں مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مولدحضرت علی رضی اللہ عنہ اور بنو ہاشم کے مکانات واقع تھے۔سلسلہ احمدیہ سے رابطہ اور بیعت : آپ بغرض سیر و سیاحت بلاد ہند میں تشریف لائے تھے۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ عیسی آسمان سے نازل ہو گیا اور دل میں کہا کہ انشاءاللہ القدیر اپنی زندگی میں عیسی کو دیکھ لیں گے۔جموں میں احمدیت کا پیغام ملا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر۴ را پریل ۱۸۸۵ء کو الہام نازل ہوا:۔" يَدْعُونَ لَكَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللهِ مِنَ الْعَرَبِ یعنی تیرے لئے ابدال شام اور عرب کے نیک بندے دعا کرتے ہیں۔اس آسمانی خبر کے ساڑھے پانچ سال بعد لدھیانہ میں ۱۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر آپ نے بیعت کر لی۔آپ کی بیعت ۱۴۱ نمبر پر رجسٹر بیعت اولی میں درج ہے۔جہاں پورا نام یوں درج ہے شیخ محمد بن شیخ احمد مکی بن حاره شعب عامر ( رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۵) کچھ عرصہ برکات سے مستفید ہونے کے بعد ۱۸۹۳ء کے وسط میں مکہ شریف بخیریت واپس پہنچ گئے۔فریضہ حج کی بجا آوری کے بعد ۴ را گست ۱۸۹۳ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں تفصیلی کوائف و حالات لکھے۔نیز شعب عامر کے ایک تاجر السید علی طالع تک پیغام حق پہنچانے اور انہیں عربی تصانیف بھجوانے کی نسبت عرضداشت کی۔چنانچہ حضرت اقدس نے ”حمامة البشرئ (عربی) مکہ معظمہ بھجوائی جس میں حضور نے دعویٰ مسیحیت ، دلائل وفات مسیح اور نزول مسیح اور خروج دجال کا تذکرہ فرمایا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں فرمایا جبی فی اللہ محمد ابن احمد مکی من حاره شعب عامر یہ صاحب عربی ہیں اور خاص مکہ معظمہ کے رہنے والے صلاحیت اور رشد اور سعادت کے آثار ان کے چہرہ پر ظاہر ہیں حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں آپ کے دور وباء کا ذکر فرمایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب میں آپ کی نسبت برے اور فاسدظنون میں مبتلا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھے کہتا ہے محمد اَنْتَ كَذَّابٌ یعنی اے محمد کذاب تو ہی ہے ان کا یہ بھی بیان ہے کہ تین برس ہوئے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ عیسی آسمان سے نازل ہو گیا ہے اور میں نے اپنے دل میں کہا تھا کہ انشاء اللہ القدیر میں اپنی زندگی میں عیسی کو دیکھ لوں گا۔(صفحہ ۵۳۹) وفات : آپ کی وفات کی تاریخ کا حتمی طور پر علم نہیں ہو سکا۔